شب برات فضیلت اور محاسبہ نفس اس زندگی کی ترقی کا انحصار اس کی ترجیحات میں مضمر ہے۔ اللہ تعالی نے اس کو غور و فکر کی صلاحیتوں سے نواز کرد ...
شب برات فضیلت اور محاسبہ نفس
اس زندگی کی ترقی کا انحصار اس کی ترجیحات میں مضمر ہے۔ اللہ تعالی
نے اس کو غور و فکر کی صلاحیتوں سے نواز کرد نیا میں بھیجا تا کہ وہ رنگ بندگی کو
سمجھ کر اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالے۔ انسان ان صلاحیتوں کو اپنی ترجیحات کی
بنیاد پر استعمال کرتا ہے اگر اس پر فکر دنیا غالب ہے تو اس کی سوچ کا دائرہ دنیا
کو پانے کے حصول کے گرد گھومے گا، لیکن اگر اس کی سوچ پر اللہ کی رضا
اور خوشنودی کے حصول کا غلبہ ہوا تو وہ ہر کام میں اطاعت اللہ اور اطاعت رسول کو
مقدم رکھے گا ۔ معلوم ہوا تر حیجات ہی انسان کو معراج انسانی تک لے جاتی ہیں اور
ترجیحات ہی انسان کو اسفل السافلین کی تاریکیوں میں ڈبود یتی ہیں۔
آج کے معاشرے کے فرد کی ترجیحات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں ۔
وقت اپنی قدرو منزلت کھو رہا ہے، ہمارے سینوں سے ذوق عبادت اور شوق اطاعت نکلتا جارہا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم میں جذبہ عشق
رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دن بدن کم ہو رہا ہے اور ہمیں اس کا احساس تک نہیں
ہے۔ عشق تب سچا ہوتا ہے جب اطاعت ہوتی ہے ہم اطاعت سےعاری ہوتے جارہے ہیں۔ اللہ
تبارک وتعالی ہر سال ماہ رمضان سے پہلے رجب اور شعبان جیسے با برکت مہینوں سے
نوازتا ہے تا کہ ہم اس کی رضا کے حصول میں لگ جائیں۔ شعبان المعظم میں پندرھویں شب
اپنی فضیلت کے اعتبار سے مبارک شب ہے۔ یہ رات غافلوں کو خواب غفلت سے
جگانے کے لیے ہر سال آتی ہے۔ یہ رات نافرمانوں کو ان کے مقصد حیات یاد دلانے کے
لیے آتی ہے۔ اس رات کو شب برات کہا جاتا ہے۔
شب برات کی فضیات قرآن کریم کی روشنی میں:
قرآن کریم کی سورۂ دخان کی ابتدائی پانچ آیات کے متعلق بعض
مفسرین کا کہنا ہے کہ ان آیات میں مبارک رات" سے مراد یہی شعبان کی پندرہویں
شب ہے۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: "قسم ہے اس روشن کتاب کی ہم نے اسے مبارک
رات میں نازل فرمایا، بے شک ہمیں ڈرانا مقصود تھا۔ اس رات میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے خاص حکم سے"۔
(سورۂ دخان : ۶۵) اور بعض مفسرین نے اس سے مراد شب قدر لی ہے۔
شب برأت احادیث کریمہ کی روشنی میں:
شب برات کی فضیلت کے حوالے سے متعدد روایات موجود ہیں جن میں ام
المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی روایت سب سے زیادہ مشہور
ہے۔ فرماتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک رات
بستر استراحت پر نہ پایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جستجو میں نکلی ،
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بقیع ( جنت البقیع ) میں اس طرح پایا کہ آپ کا سر
مبارک آسمان کی طرح اٹھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے
دیکھ کر فرمایا کہ (اے عائشہ رضی اللہ عنہا !) کیا تمہیں اس بات کا خدشہ
ہوا کہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم پر ظلم کریں گے۔ میں نے
عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم ! میں نے یہ سوچا کہ شاید آپ ازواج
مطہرات رضی اللہ عنین میں سے کسی اور زوجہ محترمہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
فرمایا: " شعبان کی پندر ہویں شب اللہ تعالی آسمان دنیا پر (اپنی شان کے
مطابق ) نزول اجلال فرماتا ہے۔ اور قبیلہ بنی کلب" کی بھیڑ ، بکریوں کے بالوں
سے بھی زیادہ تعداد میں اپنے بندوں کو بخش ہے۔ (جامع ترندی)
اس حدیث سے نبی مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا عبادت کرنا، قبرستان
جانا ثابت ہے۔ بنو کلب کی بکریوں سے تشبیہ کی وجہ محمد ثین نے یہ بیان کی ہے کہ ان
کے پاس ان گنت بکریاں تھیں اور ان کے بال بھی کافی زیادہ ہوتے تھے۔ معلوم ہوا کہ
اس رات کو کثیر تعداد میں بندگان خدا کو پروان برات نصیب ہوتا
ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " جب ماہ شعبان کی پندرہویں رات آتی تو
اللہ کریم آسمان دنیا پر اپنی شان کے مطابق نزول فرماتا ہے۔ پس وہ مشرک اور اپنے بھائی سے عداوت رکھنے والے کے سوا سب کو بخش
دیتا ہے۔"
شب برات کی فضیلت میں ایک اور حدیث سید نا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
"یقیناً ! اللہ تعالی شعبان کی پندرہویں شب اللہ یہی فرماتا رہتا ہے۔ (ابن ماجہ )
شب برات اور محاسبہ نفس:
علماء کرام نے محاسبہ کی دو اقسام میں تقسیم کیا ہے۔ پہلی قسم محاسبہ
قبل العمل یعنی کسی بھی عمل کو کرنے سے قبل اس میں غور و خوص سے کام لیتاہے۔ عامل
یہ سوچے کہ آیا اس کام میں رب کی نافرمانی تو نہیں یا یہ کام فلاں کے لیے باعث
اذیت تو نہیں۔
دوسری قسم محاسبہ بعد العمل ہے یعنی عامل سے گناہ سرزد ہو گیا ہو تو
وہ اس پر ندامت کا اظہار کرتےہوئے آئندہ بچنے کی کوششوں میں لگ جائے اور بچی تو بہ
کرے۔ مفہوم حدیث ہے: عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کو جھکا دے۔ شب برات ہمیں محاسبہ
نفس کی دعوت دیتی ہے ہمیں عالم ارواح میں کیے گئے عہد کی یاد دلاتی ہے تا کہ ہم
اپنے رب کی طرف لوٹ جائیں۔ یہ شب صرف شب نہیں ہے بلکہ رب کی قربت کا ایک خاص ذریعہ
ہے یہی یہ ہے کہ اسے بھی لیلۃ البراۃ سے یاد کیا گیا ہے تو بھی لیلۃ الرحمۃ ہے۔
لیلتہ البرات کی وضائف و نوافل
1۔ دو رکعت نفل تحتہ الوضو پڑھے۔
ترکیب؛ ہر رکعت میں الحمد کے بعد ایک بار آیت الکرسی 3 بار قل ھو اللہ پڑھیں۔
فضیلت: ہر قطرہ پانی کے بدلے سات سو رکعت نفل کا ثواب ملے گا۔
2۔ 2 رکعت نماز؛
ترکیب: ہر رکعت میں الحمد کے بعد ایک بار آیتہ الکرسی 15 بار قل ھو اللہ پڑھیں، سلام کے بعد 100 بار درود شریف پڑھیں۔
فضیلت: روزی میں برکت ہوگی۔ رنج و غم سے نجات ، گناہوں کی بخشش و مغفرت ہوگی۔
3۔ 8 رکعت نماز (بالترتیب 2،2 کر کے):
ترکیب: ہر رکعت میں الحمد کے بعد 5 بار قل ھو اللہ پڑھیں۔
فضیلت: گناہوں سے پاک صاف ہوگا۔ دعائین قبول ہونگی ، ثواب عظیم ہوگا۔
4۔ 12 رکعت نماز(بالترتیب 2،2کر کے)
ترکیب: ہر رکعت میں الحمد اللہ کے بعد 10 بار قل ھو اللہ ، 10 بار کلمہ توحید، 10 بار کلمہ تمجید ، دس بار درود شریف
فضیلت: درجات کی بلندی
5۔ 14 رکعت نماز(بالترتیب 2،2کر کے)
ترکیب: ہر رکعت میں الحمد اللہ کے بعد جو بھی سورۃ پڑھنی ہو پڑھ لیں۔
فضیلت: جو بھی دعا مانگے قبول ہوگی۔
6۔ 4 رکعت (بالترتیب 2،2 کر کے)
ترکیب: ہر رکعت میں الحمد اللہ کے بعد 50 بار قل ھو اللہ پڑھیں۔
فضیلت: گناہوں سے ایسے پاک ہو جائے گا جیسے ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہو۔
7۔ 8 رکعت (بالترتیب 2،2 کر کے)
ہر رکعت میں الحمد اللہ کے بعد 11 بار قل ھو اللہ پڑھیں اور اس کا ثواب خاتون جنت سیدہ النساء جناب سیدہ فاطمتہ الزہرہ سلام اللہ علیھا کو نذر کریں۔
فضیلت: آپ (سلام اللہ علیھا) فرماتی ہیں کہ میں اس نماز پڑھنے والے کی شفاعت کیے بنا جنت میں قدم نہ رکھوں گی۔
روزہ کی فضیلت:
حضور سید عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ فرماتے ہیں جس نے شعبان میں ایک دن روزہ رکھا اس کو میری شفاعت حلال ہو گی۔ ایک اور حدیث شریف ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ جو شخص شعبان کی 15 تاریخ کو روزہ رکھے اسے جہنم کی آگ نہ چھوئیگی۔


.png)
No comments